04-Aug-2022-تحریری مقابلہ اب تو آجاؤ
کبھی لفظ بھول جاؤں
کبھی بات بھول جاؤں
تجھے اس قدر چاہوں کہ
اپنی ذات بھول جاؤں ۔۔۔
اٹھ کر کبھی تیرے
پاس سے چل دوں
جاتے ہوئے خود کو
تیرے پاس بھول جاؤں۔۔
کیسے کہوں تم سے
کہ کتنا چاہا ہے تم کو
اگر کہنے پہ آؤں تو
الفاظ بھول جاؤں
میری اداسی سے اگر
تجھ کو ملتی ہے خوشی
تو قسم مجھ کو تیری
کہ میں مسکان بھول جاؤں
تجھے دیکھ دیکھ میری
یہ چلتی ہیں سانسیں
جو تو نظر نہ آئےتو اپنی
ہر سانس بھول جاؤں
طالب دعا ء
ڈاکٹر عبد العلیم خان
adulnoorkhan@gmail.com
MR SID
05-Aug-2022 06:00 PM
Nice
Reply
Saba Rahman
05-Aug-2022 12:48 AM
Nice
Reply
Khan
05-Aug-2022 12:12 AM
Nice
Reply